کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے اپوزیشن لیڈر اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کے خلاف درج ایف آئی آر سے متعلق تمام کارروائی اگلی سماعت تک معطل کر دی ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ اس وقت دیا جب ایف آئی آر کے خاتمے سے متعلق درخواست کی سماعت کی جا رہی تھی، اور بعد ازاں اس پر عبوری حکمِ امتناع (اسٹے آرڈر) جاری کرتے ہوئے مزید کارروائی روکنے کی ہدایت دی گئی۔
یہ کیس چیف جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنا اور ریاست کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار ایک رکن پارلیمنٹ ہیں اور انہیں پارلیمانی استثنیٰ حاصل ہے، اس لیے سوال اٹھتا ہے کہ انہوں نے یہ معاملہ براہِ راست ہائی کورٹ میں کیوں پیش کیا۔
عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ کیا یہ معاملہ پارلیمنٹ یا ٹرائل کورٹ میں حل کیا جا سکتا تھا۔
محمود خان اچکزئی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر سیاسی بنیادوں پر درج کی گئی ہے اور اس میں قانونی خامیاں موجود ہیں، لہٰذا اسے یا تو ختم کیا جائے یا اس کی کارروائی معطل کی جائے۔
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایف آئی آر سے متعلق تمام کارروائی روکنے کا حکم دیتے ہوئے ریاست سے جواب طلب کر لیا، جبکہ اگلی سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔