کوئٹہ: حکومتِ بلوچستان نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان (SLIC) کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ طے کر لیا ہے جس کے تحت “پیپلز ہیلتھ پروگرام” کا آغاز کیا جائے گا۔ اس صوبہ بھر کے ہیلتھ انشورنس منصوبے کے ذریعے ساڑھے تین لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین، پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو کیش لیس طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کی تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور اسٹیٹ لائف انشورنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شعیب جاوید حسین نے شرکت کی۔
معاہدے پر سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن پانیزئی اور اسٹیٹ لائف کے ڈویژنل ہیڈ ہیلتھ اینڈ ایکسیڈنٹ انشورنس محمد اشعر نے دستخط کیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ پیپلز ہیلتھ پروگرام کے تحت مکمل ڈیجیٹل اور کیش لیس ہیلتھ کیئر نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جو روایتی ری ایمبرسمنٹ نظام کی جگہ لے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ پاکستان بھر کے ایک ہزار سے زائد سرکاری و نجی اسپتالوں میں علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام سے انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی اور علاج معالجے کے عمل میں تاخیر کم ہوگی۔
اسٹیٹ لائف کے سی ای او شعیب جاوید حسین نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے ساتھ اس منصوبے پر عمل درآمد ان کے ادارے کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ لائف کا ملک گیر اسپتال نیٹ ورک، ڈیجیٹل کلیمز مینجمنٹ سسٹم اور آپریشنل انفراسٹرکچر صوبے بھر میں شفاف اور بلا تعطل طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گا۔
اس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو سالانہ ہیلتھ انشورنس کوریج فراہم کی جائے گی جبکہ مکمل کیش لیس ان ڈور علاج کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد بلوچستان میں صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا اور عوامی فلاحی خدمات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔