سیکیورٹی خدشات: بلوچستان حکومت کی خضدار ضمنی انتخابات کی مخالفت
اسلام آباد: بلوچستان حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کو آگاہ کیا ہے کہ خضدار کے حلقہ این اے 256 میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث ضمنی انتخابات کا انعقاد فی الحال ممکن نہیں۔
بدھ کے روز الیکشن کمیشن حکام کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان اور انسپکٹر جنرل پولیس نے حلقے کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
حکام کے مطابق علاقے میں مسلح عناصر کی موجودگی، قبائلی تنازعات اور دیگر اضلاع سے پولیس و قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعیناتی نے انتخابی عمل کے انعقاد میں شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
بلوچستان حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ حلقے کا بیشتر حصہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ مجموعی سیکیورٹی ماحول غیر مستحکم ہے، جس کے باعث پولنگ عملے اور ووٹرز کو مکمل تحفظ فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ، جنہوں نے اجلاس کی صدارت کی، نے کہا کہ آئین کے مطابق الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات کرانے کا پابند ہے تاہم تازہ سیکیورٹی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے مؤقف اپنایا کہ وہ انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے اور مزید پیش رفت سے قبل صوبائی حکومت سے تازہ رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ این اے 256 خضدار کی نشست بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے سربراہ سردار اختر مینگل کے ستمبر 2024 میں قومی اسمبلی سے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔
اپنے استعفے میں سردار اختر مینگل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور حقیقی نمائندگی نہ ہونے کے باعث وہ صوبے کے لیے مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے۔
الیکشن کمیشن نے فروری 2026 میں ان کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے 13 فروری کو ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری کیا تھا، تاہم صوبائی حکومت کی درخواست پر 27 مارچ کو سیکیورٹی صورتحال کے باعث انتخابی شیڈول معطل کر دیا گیا۔