بلوچستان میں ڈاکٹروں کی ہڑتال 21ویں روز میں داخل، سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز بدستور بند

بلوچستان میں ڈاکٹروں کی ہڑتال 21ویں روز میں داخل، سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز بدستور بند

Jun 29, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ: بلوچستان میں خاتون ڈاکٹر ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے کے خلاف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) کی جانب سے جاری احتجاج 21ویں روز میں داخل ہو گیا، جس کے باعث صوبے بھر کے سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈی سروسز اتوار کو بھی مکمل طور پر بند رہیں۔


او پی ڈیز کی مسلسل بندش کے باعث ہزاروں مریض، خصوصاً غریب، بزرگ، خواتین اور بچے، معمول کے علاج سے محروم رہے اور انہیں بغیر معائنہ کروائے واپس لوٹنا پڑا۔ تاہم اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز، انڈور سروسز، آپریشن تھیٹرز اور ڈائیلاسز یونٹس معمول کے مطابق فعال رہے۔


ڈاکٹروں کے مطالبات


پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کے ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والے تیزاب حملے کو تین ہفتے گزرنے کے باوجود نہ تو ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا اور نہ ہی ڈاکٹروں کے جائز مطالبات پر پیش رفت ہوئی۔


پی ایم اے نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدار عدالتی تحقیقات (جوڈیشل انکوائری) کرائی جائے، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک صوبائی سیکریٹری صحت اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول اسپتال کوئٹہ کو عہدوں سے ہٹایا جائے تاکہ انکوائری پر کسی قسم کا اثر نہ پڑے۔


30 سے زائد ڈاکٹروں کی معطلی پر احتجاج


پی ایم اے نے حکومت بلوچستان کی جانب سے 30 سے زائد سینئر ڈاکٹروں اور افسران کی معطلی اور محکمانہ کارروائی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ پوری طبی برادری کی توہین کے مترادف ہے۔


اسلام آباد لانگ مارچ بھی زیر غور


پی ایم اے کا جنرل باڈی اجلاس پیر کو سول اسپتال کوئٹہ میں طلب کر لیا گیا ہے، جس میں احتجاج کے اگلے مرحلے پر فیصلہ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد لانگ مارچ سمیت احتجاج کو مزید وسعت دینے کی تجاویز زیر غور آئیں گی۔


تنظیم نے منگل کے روز سول اسپتال کوئٹہ میں احتجاجی ریلی کا بھی اعلان کیا ہے اور تمام ڈاکٹرز اور طبی تنظیموں سے بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔


حکومت سے مذاکرات اور انصاف کا مطالبہ


پی ایم اے نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکریٹری، صوبائی وزیر صحت اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر صرف اپنی جان کے تحفظ، شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت کو معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے تاکہ عوام کو جلد از جلد مکمل طبی سہولیات دوبارہ فراہم کی جا سکیں۔