اسلام آباد / کوئٹہ: فرسٹ لیڈی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے سول ہسپتال کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور نثار پر ہونے والے تیزاب حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خواتین کے خلاف تشدد کی ایک افسوسناک اور ناقابل قبول مثال قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں آصفہ بھٹو زرداری نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کا مہذب معاشرے میں کوئی مقام نہیں اور ایسے جرائم سے قانون کی مکمل طاقت کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
ڈاکٹر ماہ نور نثار کے لیے بہترین طبی سہولیات کی ہدایت
فرسٹ لیڈی نے ڈاکٹر ماہ نور نثار کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ اور طبی حکام کو ہدایت کی کہ انہیں علاج معالجے کی بہترین سہولیات اور خصوصی طبی نگہداشت فراہم کی جائے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر ماہ نور جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیں گی۔
عبدالرزاق ترکئی کی جرات کو خراج تحسین
آصفہ بھٹو زرداری نے حملے کے دوران زخمی ہونے والے عبدالرزاق ترکئی کی غیر معمولی بہادری اور انسان دوستی کو سراہا۔
انہوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے درخواست کی کہ عبدالرزاق ترکئی کو ان کی جرات، ایثار اور بروقت مدد کے اعتراف میں ایک اعلیٰ سول اعزاز سے نوازا جائے۔
آصفہ بھٹو کے مطابق عبدالرزاق ترکئی کی دلیرانہ کارروائی نے نہ صرف ایک قیمتی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ پوری قوم کے لیے انسانیت، ہمدردی اور بہادری کی روشن مثال بھی قائم کی۔
خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت
فرسٹ لیڈی نے کہا کہ خواتین خصوصاً ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر پیشہ ور خواتین کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول کی فراہمی ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے اور ان کے تحفظ کے لیے تمام اداروں کو مشترکہ اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور نثار پر ہونے والے تیزاب حملے کی ملک بھر میں شدید مذمت کی جا رہی ہے جبکہ سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خواتین کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔