مودی حکومت ناکام ،مقبوضہ کشمیر میں فوج اور پولیس میں تصادم

مودی حکومت ناکام ،مقبوضہ کشمیر میں فوج اور پولیس میں تصادم

Jun 29, 2026|ویب ڈیسک

​سرینگر — مودی حکومت کے ناقص انتظامی کنٹرول اور گرتے ہوئے ریاستی نظم و نسق کے باعث مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فورسز کے مابین شدید اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ضلع کشتواڑ میں غاصب بھارتی فوج کے اہلکاروں نے مقامی پولیس کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہوئے تھانے پر دھاوا بول دیا، جس نے نئی دہلی کے حکومتی ڈھانچے میں سنگین دراڑوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

17 راشٹریہ رائفلز کا تھانے پر حملہ اور توڑ پھوڑ

​بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق، یہ افسوسناک اور پرتشدد واقعہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں اس وقت پیش آیا جب 17 راشٹریہ رائفلز کے تقریباً 40 اہلکار جدید اسلحہ اور لاٹھیوں سے لیس ہو کر اتھولی تھانے کی چار دیواری پھلانگ کر اندر داخل ہو گئے۔

​فوجی اہلکاروں نے تھانے کے اندر داخل ہوتے ہی وہاں موجود املاک کی شدید توڑ پھوڑ کی اور ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

​ایف آئی آر کے مندرجات: مقامی پولیس نے واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حملہ آور فوج کے میجر اور کمانڈنگ آفیسر سمیت متعدد اہلکاروں کے خلاف اقدامِ قتل اور حملے کی باقاعدہ ایف آئی آر (FIR) درج کر لی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، فوجی اہلکاروں کا یہ حملہ مکمل طور پر پہلے سے طے شدہ (Premeditated) تھا اور وہ ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔

قابض افواج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ماضی کے واقعات

​مقبوضہ کشمیر میں پولیس، فوج یا پیراملٹری فورسز کے درمیان تصادم کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ان اداروں کے درمیان دائرہ اختیار اور اختیارات کی جنگ کے باعث کئی بار خونریز جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

​ادارتی تصادم: حاضر سروس فوجی میجر کے خلاف اقدامِ قتل کا مقدمہ دونوں اداروں کے درمیان گہری خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔

​انتظامی ناکامی: مبصرین کے مطابق، بھارتی فوج کی یہ غنڈہ گردی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مودی حکومت اپنے ہی ریاستی اور عسکری اداروں پر گرفت کھو چکی ہے۔

​نظامی انتشار: مقبوضہ وادی میں تعینات مختلف سیکیورٹی ونگز کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی قابض افواج میں پیدا ہونے والی مایوسی اور نظم و ضبط کی شدید کمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔قبوضہ کشمیر میں فوج اور پولیس میں تصادم