کوئٹہ : بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے والی کالعدم عسکریت پسند تنظیم 'بلوچ لبریشن آرمی' (BLA) کی جانب سے حالیہ برسوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں، بالخصوص خودکش حملوں کے لیے خواتین کو استعمال کرنے کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، مجید بریگیڈ کی جانب سے خواتین کو فرنٹ لائن پر لانے کا مقصد جہاں سیکیورٹی چیک پوسٹوں سے آسانی سے گزرنا ہے، وہاں عالمی سطح پر ہمدردیاں سمیٹنا بھی ہے۔کراچی یونیورسٹی میں شاری بلوچ کی جانب سے کیے گئے خودکش حملے کے بعد سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پڑھے لکھے اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو منظم پروپیگنڈے کے تحت ہدف بنایا جا رہا ہے۔خواتین کی بھرتی کا طریقہ کار اور برین واشنگسیکیورٹی فورسز کی حالیہ تحقیقات اور انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، بی ایل اے کا آن لائن اور آف لائن ریکروٹمنٹ نیٹ ورک انتہائی منظم طریقے سے کام کرتا ہے:مظلومیت کا بیانیہ نوجوان طالبات اور خواتین کو ریاستی اداروں کے خلاف لٹریچر اور گمراہ کن ویڈیوز دکھا کر ان کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔آن لائن نیٹ ورکس اور ہینڈلرز: سوشل میڈیا کے خفیہ گروپس اور انکرپٹڈ ایپلی کیشنز (Encrypted Apps) کے ذریعے خواتین سے رابطے قائم کیے جاتے ہیں اور انہیں سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے اوجھل رکھ کر نیٹ ورک کا حصہ بنایا جاتا ہے۔لاجسٹک اور آپریشنل استعمال: ابتدائی طور پر ان خواتین کو کورئیر، فنڈز کی منتقلی اور ہتھیاروں یا دھماکہ خیز مواد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں آخری مرحلے یعنی خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔حبیبہ پیر جان کون ہیں؟ نیٹ ورک سے مبینہ روابط کی تفصیلاتانٹیلیجنس اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے دوران یہ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ اس پروپیگنڈے اور ریکروٹمنٹ نیٹ ورک کے پسِ پردہ کچھ ایسے چہرے بھی سرگرم ہیں جو بظاہر سول سوسائٹی یا ثقافتی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ انہی ناموں میں ایک نام حبیبہ پیر جان کا سامنے آیا ہے۔ناممبینہ وابستگی / کردارتحقیقاتی چارجز اور انکشافاتحبیبہ پیر جان (Habiba Peer Jan)کالعدم بی ایل اے کا فیمیل نیٹ ورکخواتین کو عسکریت پسندی کی طرف راغب کرنے، سہولت کاری اور آن لائن ہینڈلنگ کے الزاماتسیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حبیبہ پیر جان کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ان پر الزام ہے کہ وہ مادی یا فکری طور پر اس مخصوص نیٹ ورک کا حصہ رہی ہیں جو نوجوان خواتین کو ریاست مخالف مہم جوئی اور انتہا پسندی کی طرف دھکیلتا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ان کی حراست اور تفتیش کا مقصد اس وسیع نیٹ ورک کی جڑیں اکھاڑنا ہے جو بلوچستان کی خواتین کو تعلیم اور ترقی کی راہ سے ہٹا کر تباہی کے راستے پر گامزن کر رہا ہے۔ دوسری جانب، ہیومن رائٹس کونسل اور بعض حلقوں کی جانب سے ان کے حوالے سے بیانات بھی سامنے آئے ہیں، تاہم سیکیورٹی حکام کا اصرار ہے کہ سائنسی اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر نیٹ ورک کے تانے بانے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک
واپس خبروں پر
Category:
بلوچستان