اسلام آباد – آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن (APPSF) نے آئندہ وفاقی بجٹ میں تعلیمی سٹیشنری پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) میں 8 فیصد اضافے کی مبینہ تجاویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ نوٹ بک، پنسل، اور نصابی کتب پر ٹیکس بڑھانے کی یہ تجویز آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 اور 25A کے تحت دیے گئے تعلیم کے بنیادی حق پر براہِ راست حملہ ہے۔
آئین کے آرٹیکل 25A اور عالمی وعدوں کی خلاف ورزی
میڈیا کو جاری کردہ بیان میں صدر APPSF کاشف مرزا نے واضح کیا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ سیکھنے کے وسائل پر ٹیکس لگانا دراصل پاکستان کے مستقبل پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔
"سٹیشنری کوئی پرتعیش اشیاء نہیں بلکہ ہر بچے کی بنیادی ضرورت ہے۔ آرٹیکل 25A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ ضروری تعلیمی مواد پر ٹیکس لگانا اس آئینی ذمہ داری اور SDG-4 کے عالمی عزم کے متصادم ہے۔"
لاکھوں مزید بچوں کے سکولوں سے باہر ہونے کا خدشہ
کاشف مرزا نے خبردار کیا کہ پاکستان پہلے ہی شدید تعلیمی ایمرجنسی کی زد میں ہے جہاں 28 ملین (2 کروڑ 80 لاکھ) سے زائد بچے پہلے ہی سکولوں سے باہر ہیں۔
ٹیکس کے ممکنہ منفی اثرات:
تعلیمی غربت میں اضافہ: سٹیشنری مہنگی ہونے سے لاکھوں مزید بچے سکول چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے اور تعلیمی غربت کا شکار ہوں گے۔
لڑکیوں کی تعلیم پر اثر: بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں میں بالخصوص لڑکیوں کے سکول چھوڑنے کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گا۔
خوراک یا تعلیم کا مشکل انتخاب: مہنگائی کے اس دور میں والدین مجبور ہو جائیں گے کہ وہ بچوں کے لیے خوراک کا انتخاب کریں یا تعلیم کا۔
وفاقی حکومت سے فوری ریلیف اور ٹیکس استثنیٰ کا مطالبہ
مہنگائی کے دباؤ کی وجہ سے شعبہ تعلیم پہلے ہی بجلی، کاغذ اور پرنٹنگ کے بھاری اخراجات برداشت کر رہا ہے۔ ایسے میں اسٹیشنری پر اضافی 8 فیصد جی ایس ٹی گھریلو بجٹ پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالے گا۔
آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور پارلیمنٹ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:
سٹیشنری اشیاء پر مجوزہ 8 فیصد جی ایس ٹی میں اضافے کی تجویز کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
نصابی کتب، نوٹ بک اور پنسلوں کو مکمل ٹیکس استثنیٰ (Zero-Rated Status) دیا جائے۔
وفاقی حکومت تعلیمی بجٹ کو جی ڈی پی (GDP) کا 5 فیصد مختص کرے۔
صدر APPSF نے تاکید کی کہ تعلیم کو متاثر کرنے والے کسی بھی مالیاتی فیصلے پر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے، اور فیڈریشن لاکھوں طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے خاموش نہیں بیٹھے گی