تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کا سٹیشنری پر 8٪ جی ایس ٹی اضافے کو تسلیم کرنے سے انکار، شدید مذمت

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کا سٹیشنری پر 8٪ جی ایس ٹی اضافے کو تسلیم کرنے سے انکار، شدید مذمت


اسلام آباد – آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن (APPSF) نے آئندہ وفاقی بجٹ میں تعلیمی سٹیشنری پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) میں 8 فیصد اضافے کی مبینہ تجاویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ نوٹ بک، پنسل، اور نصابی کتب پر ٹیکس بڑھانے کی یہ تجویز آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 اور 25A کے تحت دیے گئے تعلیم کے بنیادی حق پر براہِ راست حملہ ہے۔

آئین کے آرٹیکل 25A اور عالمی وعدوں کی خلاف ورزی

میڈیا کو جاری کردہ بیان میں صدر APPSF کاشف مرزا نے واضح کیا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ سیکھنے کے وسائل پر ٹیکس لگانا دراصل پاکستان کے مستقبل پر ٹیکس لگانے کے مترادف ہے۔

"سٹیشنری کوئی پرتعیش اشیاء نہیں بلکہ ہر بچے کی بنیادی ضرورت ہے۔ آرٹیکل 25A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے۔ ضروری تعلیمی مواد پر ٹیکس لگانا اس آئینی ذمہ داری اور SDG-4 کے عالمی عزم کے متصادم ہے۔"

لاکھوں مزید بچوں کے سکولوں سے باہر ہونے کا خدشہ

کاشف مرزا نے خبردار کیا کہ پاکستان پہلے ہی شدید تعلیمی ایمرجنسی کی زد میں ہے جہاں 28 ملین (2 کروڑ 80 لاکھ) سے زائد بچے پہلے ہی سکولوں سے باہر ہیں۔

ٹیکس کے ممکنہ منفی اثرات:

تعلیمی غربت میں اضافہ: سٹیشنری مہنگی ہونے سے لاکھوں مزید بچے سکول چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے اور تعلیمی غربت کا شکار ہوں گے۔

لڑکیوں کی تعلیم پر اثر: بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں میں بالخصوص لڑکیوں کے سکول چھوڑنے کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گا۔

خوراک یا تعلیم کا مشکل انتخاب: مہنگائی کے اس دور میں والدین مجبور ہو جائیں گے کہ وہ بچوں کے لیے خوراک کا انتخاب کریں یا تعلیم کا۔

 وفاقی حکومت سے فوری ریلیف اور ٹیکس استثنیٰ کا مطالبہ

مہنگائی کے دباؤ کی وجہ سے شعبہ تعلیم پہلے ہی بجلی، کاغذ اور پرنٹنگ کے بھاری اخراجات برداشت کر رہا ہے۔ ایسے میں اسٹیشنری پر اضافی 8 فیصد جی ایس ٹی گھریلو بجٹ پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالے گا۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور پارلیمنٹ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:

سٹیشنری اشیاء پر مجوزہ 8 فیصد جی ایس ٹی میں اضافے کی تجویز کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

نصابی کتب، نوٹ بک اور پنسلوں کو مکمل ٹیکس استثنیٰ (Zero-Rated Status) دیا جائے۔

وفاقی حکومت تعلیمی بجٹ کو جی ڈی پی (GDP) کا 5 فیصد مختص کرے۔

صدر APPSF نے تاکید کی کہ تعلیم کو متاثر کرنے والے کسی بھی مالیاتی فیصلے پر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے، اور فیڈریشن لاکھوں طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے خاموش نہیں بیٹھے گی