افغانستان معاشی تباہی کے دہانے پر: طالبان کی ناقص پالیسیوں اور بڑھتی بھوک پر اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش
کابل/نیویارک: افغانستان میں طالبان حکومت کی ناقص معاشی حکمت عملی اور مفلوج نظامِ حکومت کے باعث ملک میں غربت، بھوک اور افلاس نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو افغانستان ایک مکمل 'ناکام ریاست' کی تصویر پیش کرے گا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ: غذائی عدم تحفظ کے ہولناک اعداد و شمار
افغان خبر رساں ایجنسیوں 'آریانا نیوز' اور 'طلوع نیوز' کے مطابق، اقوام متحدہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں 1 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
طالبان دورِ حکومت میں خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور معاشی بحران نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کی وارننگ
ورلڈ فوڈ پروگرام نے تشویش ناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ غذائی قلت کا شکار خواتین اور بچوں کے علاج کے لیے ناگزیر 'مخصوص خوراک' کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، اس قلت کے نتیجے میں مستقبل قریب میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔
ماہرین کا تجزیہ: عوامی فلاح یا دہشت گردی کی پشت پناہی؟
سفارتی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت ملکی وسائل کو عوامی خوشحالی اور معاشی استحکام پر خرچ کرنے کے بجائے مبینہ طور پر دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے لیے وقف کر رہی ہے۔ حکومتی ترجیحات میں عوامی مفادات کی عدم موجودگی کا خمیازہ براہِ راست افغان عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔