کوئٹہ / کراچی: سول ہسپتال کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر ماہ نور نثار پر ہونے والے تیزاب حملے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ پاکستان کی معروف شوبز شخصیات، سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انصاف اور خواتین کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
دورانِ ڈیوٹی ڈاکٹر ماہ نور پر حملہ
حکام کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور نثار کو سول ہسپتال کوئٹہ کے سرجیکل وارڈ میں دورانِ ڈیوٹی تیزاب کا نشانہ بنایا گیا، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔
واقعے کے بعد ملزم فرار ہوگیا تاہم بعد ازاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔
اس واقعے نے خواتین اور طبی عملے کی سکیورٹی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ڈاکٹر اسامہ خان کا جذباتی پیغام
واقعے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھی ڈاکٹر اسامہ خان کی سوشل میڈیا پوسٹ نے عوام کی توجہ حاصل کی۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں ڈاکٹر ماہ نور کو ایک خوش مزاج، محنتی اور قابل ڈاکٹر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی شخصیت کو ظلم کا نشانہ بنتے دیکھنا ناقابلِ برداشت ہے۔
انہوں نے کہا کہ طبی عملہ انسانوں کی جان بچانے کے لیے کام کرتا ہے لیکن افسوس کہ معاشرہ اپنے محسنوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
ماہرہ خان کا شدید ردعمل
معروف اداکارہ ماہرہ خان نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"ایک خاتون اپنی ڈیوٹی پر گئی تھی تاکہ لوگوں کی جان بچا سکے، لیکن کسی نے اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا۔ یہ بربریت ہے، یہ ظلم ہے، اور یہ ناقابلِ قبول ہے۔"
انہوں نے مردوں اور عورتوں دونوں سے اپیل کی کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائے۔
یاسر حسین کا اہم سوال
اداکار یاسر حسین نے معاشرے میں خواتین کو موردِ الزام ٹھہرانے کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
"اگر ایک ڈاکٹر دورانِ ڈیوٹی تیزاب حملے کا نشانہ بن سکتی ہے تو مسئلہ لباس میں نہیں بلکہ سوچ میں ہے۔"
صہیفہ جبار کی خواتین کے حق میں آواز
ماڈل اور کاروباری شخصیت صہیفہ جبار نے کہا کہ خواتین کو تنقید، تضحیک اور اخلاقی نگرانی کا نشانہ بنانے والی سوچ ہی بڑے جرائم کو جنم دیتی ہے۔
ان کے مطابق خواتین کے خلاف تشدد، تیزاب گردی اور امتیازی رویے ایک ہی ذہنیت کی مختلف شکلیں ہیں۔
انصاف اور تحفظ کا مطالبہ
ڈاکٹر ماہ نور نثار پر حملے کے بعد سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ خواتین اور طبی عملے کے تحفظ کے لیے سخت قوانین پر عملدرآمد، ہسپتالوں میں بہتر سکیورٹی اور صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں
https://tribune.com.pk/story/2611878/mahira-khan-yasir-hussain-among-others-condemn-acid-attack-on-female-doctor-in-quetta