لاہور ( سپورٹس ڈیسک)دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ روز تک لاپتہ رہنے کے بعد زندہ بچ جانے والے نیپالی شیرپا گائیڈ داوا نے اپنی حیرت انگیز بقا کی داستان بیان کر دی۔داوا کے مطابق انہوں نے برفانی پہاڑ پر چھ دن انتہائی دشوار حالات میں گزارے۔ اس دوران وہ برف چبا کر پیاس بجھاتے رہے جبکہ جیبوں میں موجود چاکلیٹ کھا کر اپنی جان بچائے رکھی۔شیرپا گائیڈ کا کہنا ہے کہ وہ حقیقت میں لاپتہ نہیں ہوئے تھے، بلکہ آکسیجن کا ذخیرہ ختم ہونے کے باعث انہیں راستے میں رکنا پڑا، جس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے۔داوا اس وقت کٹھمنڈو کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں جسم میں پانی کی شدید کمی، شدید سردی سے متاثر ہونے اور ایک ہڈی ٹوٹنے کے باعث ان کا علاج جاری ہے۔یاد رہے کہ نیپالی شیرپا گائیڈ ایک ہفتے کے قریب لاپتہ رہنے کے بعد زندہ حالت میں ملے تھے۔ سخت برفانی موسم، خوراک اور اضافی آکسیجن کی عدم دستیابی کے باوجود ان کا زندہ بچ جانا غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔باون سالہ داوا ایک پولش کوہ پیما کے ہمراہ چوٹی سر کرنے کی کوشش کے بعد واپس آ رہے تھے کہ کیمپ تین اور کیمپ چار کے درمیان رابطہ منقطع ہو گیا۔ دونوں کوہ پیما اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔داوا کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی طویل ہونے پر انہیں مردہ تصور کرتے ہوئے آخری رسومات کی تیاری بھی شروع کر دی تھی، تاہم ان کی زندہ بازیابی نے خاندان اور دوستوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔