تازہ ترین
بلوچستان میں ایماندار افسران کب تک انتقام کا نشانہ بنتے رہیں گے؟ کالعدم بی ایل اے کا ’خواتین نیٹ ورک‘: خودکش حملوں اور دہشت گردی کے لیے برین واشنگ کے طریقہ کار کا پردہ چاک فتنہ الہندوستان کے خلاف ایف سی بلوچستان (ساؤتھ)کی تابر توڑ کاروائیاں مشرقِ وسطیٰ میں نیا تنازع شدت اختیار کر گیا، ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ؛ ٹرمپ کی فوری سفارتی مداخلت کوئٹہ تیزاب حملہ ڈاکٹر ماہ نور کی حالت مستحکم، بینائی محفوظ، اے کے یو ایچ میں علاج جاری رخنی کو جدید ماڈل ڈویژنل سٹی بنانے کا فیصلہ، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ماہرہ خان، یاسر حسین سمیت فنکاروں کا شدید ردعمل، انصاف کا مطالبہ آصفہ بھٹو زرداری کی ڈاکٹر ماہ نور نثار پر تیزاب حملے کی شدید مذمت "پاکستان آپ کے ساتھ کھڑا ہے" — وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی ڈاکٹر ماہ نور نثار سے ملاقات ویمن پارلیمنٹری کاکس بلوچستان کی کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کی شدید مذمت تیزاب حملے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور نثار کی مدد کرنے والے عبدالرزاق ترکئی کے لیے سول ایوارڈ کا اعلان فلپائن میں شدید زلزلہ: 5 افراد ہلاک، متعدد زخمی، سرکاری میڈیا کی تصدیق پاک افغان تجارت کی معطلی سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات: غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کی واضح برتری، 9 نشستیں اپنے نام کر لیں جرمنی کے الیگزینڈر زیوریو نے فرنچ اوپن 2026ء جیت لیا معاذ صداقت اپینڈکس سرجری کے بعد دو ہفتے کے لیے کرکٹ سے باہر
بلوچستان خبر

چھ دن برف میں زندگی کی جنگ

چھ دن برف میں زندگی کی جنگ

لاہور ( سپورٹس ڈیسک)دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ روز تک لاپتہ رہنے کے بعد زندہ بچ جانے والے نیپالی شیرپا گائیڈ داوا نے اپنی حیرت انگیز بقا کی داستان بیان کر دی۔داوا کے مطابق انہوں نے برفانی پہاڑ پر چھ دن انتہائی دشوار حالات میں گزارے۔ اس دوران وہ برف چبا کر پیاس بجھاتے رہے جبکہ جیبوں میں موجود چاکلیٹ کھا کر اپنی جان بچائے رکھی۔شیرپا گائیڈ کا کہنا ہے کہ وہ حقیقت میں لاپتہ نہیں ہوئے تھے، بلکہ آکسیجن کا ذخیرہ ختم ہونے کے باعث انہیں راستے میں رکنا پڑا، جس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گئے۔داوا اس وقت کٹھمنڈو کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں جسم میں پانی کی شدید کمی، شدید سردی سے متاثر ہونے اور ایک ہڈی ٹوٹنے کے باعث ان کا علاج جاری ہے۔یاد رہے کہ نیپالی شیرپا گائیڈ ایک ہفتے کے قریب لاپتہ رہنے کے بعد زندہ حالت میں ملے تھے۔ سخت برفانی موسم، خوراک اور اضافی آکسیجن کی عدم دستیابی کے باوجود ان کا زندہ بچ جانا غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔باون سالہ داوا ایک پولش کوہ پیما کے ہمراہ چوٹی سر کرنے کی کوشش کے بعد واپس آ رہے تھے کہ کیمپ تین اور کیمپ چار کے درمیان رابطہ منقطع ہو گیا۔ دونوں کوہ پیما اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔داوا کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی طویل ہونے پر انہیں مردہ تصور کرتے ہوئے آخری رسومات کی تیاری بھی شروع کر دی تھی، تاہم ان کی زندہ بازیابی نے خاندان اور دوستوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔