بلوچستان میں محرم الحرام پر سکیورٹی سخت، 32 ہزار اہلکار تعینات

بلوچستان میں محرم الحرام پر سکیورٹی سخت، 32 ہزار اہلکار تعینات

Jun 25, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ سمیت تمام اضلاع میں پولیس، ایف سی اور اینٹی رائٹس فورس کا ہائی الرٹ جاری

​کوئٹہ — محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور مجالس و جلوسوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومتِ بلوچستان اور پولیس انتظامیہ نے صوبے بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت اور فول پروف انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

​بلوچستان پولیس کے ترجمان کے مطابق، صوبے بھر کے تمام اضلاع بالخصوص صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں محرم الحرام کے جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے 32 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ اس غیر معمولی سکیورٹی پلان کا مقصد کسی بھی ممکنہ شرپسندی کا مؤثر سدِ باب کرنا ہے۔

​تعینات کیے گئے فورسز کے نیٹ ورک میں ڈسٹرکٹ پولیس، بلوچستان کانسٹیبلری، فرینٹیئر کور (ایف سی) اور اینٹی رائٹس فورس کے چاق و چوبند دستے شامل ہیں۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔

​"محرم کے جلوسوں اور شہریوں کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے،" پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا۔ "تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے آپس میں مربوط ہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔"

حساس اضلاع اور جلوسوں کے روٹس کی سی سی ٹی وی نگرانی کا آغاز

​انتظامیہ کی جانب سے کوئٹہ کے انتہائی حساس علاقوں اور جلوس کے روٹس کو محفوظ بنانے کے لیے مانیٹرنگ سیل قائم کر دیے گئے ہیں جہاں جدید کیمروں کی مدد سے پل پل کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

​ سکیورٹی پلان کے اہم ترین نکات:

​بڑے پیمانے پر تعیناتی: امن و امان کے قیام کے لیے مجموعی طور پر 32,000 سے زائد اہلکار میدان میں موجود۔

​مشترکہ سکیورٹی فورسز: ڈسٹرکٹ پولیس، بلوچستان کانسٹیبلری، ایف سی اور اینٹی رائٹس فورس کی یکجا خدمات۔

​خصوصی فوکس: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے مرکزی جلوسوں کے روٹس پر کثیر الجہتی حفاظتی حصار قائم۔

​سخت چیکنگ: تمام اضلاع میں اسکریننگ اور پیٹرولنگ کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنا دیا گیا ہے