پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، 29 خارجی دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد — وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' پر ایک اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی منظم اور بڑے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج اور جماعت الاحرار کے 29 خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔
یہ کارروائی حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے بزدلانہ حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
آپریشن غضب للحَق: پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں فضائی حملے
سیکیورٹی فورسز نے آرپیشن غضب للحَق کے تحت پاک افغان سرحدی پٹی پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ٹھیک نشانوں پر نشانہ بنایا۔ رات گئے کی جانے والی ان ٹارگٹڈ فضائی کارروائیوں میں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ کے علاقوں میں دہشت گردوں کے 3 اہم ترین مراکز اور تربیتی کیمپ مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں 25 خوارجی ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب، باجوڑ کے علاقے میں کی جانے والی زمینی کارروائی میں جماعت الاحرار کا انتہائی مطلوب اور ہائی ویلیو کمانڈر خان فروش عرف زابل اپنے 3 ساتھیوں سمیت مارا گیا، جبکہ متعدد دہشت گرد شدید زخمی ہوئے۔
اہم ترین حاصلات: تباہ کیے گئے مراکز سے بھاری مقدار میں ذخیرہ شدہ جدید ترین اسلحہ، بارود اور لاجسٹک نیٹ ورک کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا گیا ہے تاکہ یہ عناصر دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔
عزمِ استحکام: ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی اور شہریوں کا تحفظ ریاست کی اولین اور ناگزیر ترجیح ہے، اور امن کی کوششوں کو کسی بھی صورت میں ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
اینٹی ٹیررازم مشنز کا تسلسل: وفاقی ایپکس کمیٹی کے وژن کے تحت ملک گیر انسدادِ دہشت گردی آپریشنز پوری طاقت سے جاری رہیں گے۔
عزمِ استحکام کا عزم: دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خوارجی نیٹ ورکس کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رکھیں گے۔