محرم الحرام سیکیورٹی: وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے

محرم الحرام سیکیورٹی: وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیرصدارت اجلاس میں اہم فیصلے

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا سخت کارروائی کا حکم؛ عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے

کوئٹہ — وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی اجلاس منعقد ہوا، جس میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات اور خطرات کی روک تھام پر جامع بریفنگ دی گئی۔


محکمہ داخلہ کی بریفنگ کے مطابق، صوبے کی حساس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 11 اضلاع کو انتہائی حساس اور 6 اضلاع کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ایوانِ وزیراعلیٰ نے ان اضلاع میں امن کو یقینی بنانے کے لیے 9 اور 10 محرم الحرام کے لیے ایک جامع 'ایمرجنسی رسپانس پلان' کی منظوری دے دی ہے۔


اجلاس کے اہم فیصلے اور وزیراعلیٰ کی ہدایات

وزیراعلیٰسرفراز بگٹی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح اور سخت ہدایات جاری کی ہیں:


اشتعال انگیزی پر سخت ایکشن: امن و امان کو خراب کرنے اور فرقہ وارانہ یا اشتعال انگیز مواد پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلا تفریق سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔


جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح: سرفراز بگٹی نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا موجودہ حکومت کی اولین اور سب سے اہم آئینی ذمہ داری ہے۔


سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات: محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں کے روٹس پر فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔


ایمرجنسی رسپانس پلان کے بنیادی خدوخال

نئے ایمرجنسی پلان کے تحت تمام حساس اضلاع میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز قائم کر دیے گئے ہیں جو چوبیس گھنٹے جلوسوں کی مانیٹرنگ کریں گے۔ عزاداروں کی حفاظت کے لیے پولیس اور لیویز کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اضافی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طبی اور امدادی ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رہنے کا حکم دیا گیا ہے