محرم الحرام سکیورٹی پلان, اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس
شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح، وفاق کا تمام صوبوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین
اسلام آباد — محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور مثالی سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے وزارتِ داخلہ میں ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ نے کی۔
اس اہم انتظامی اور تزویراتی اجلاس میں چاروں صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹریز اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں ملک گیر سکیورٹی اقدامات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اجلاس کے دوران محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں اور مجالس کے لیے بنائے گئے مربوط سکیورٹی پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ فول پروف سکیورٹی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے کیونکہ امن و امان کا قیام حکومت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔
"محرم الحرام میں شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے،" وزیر مملکت طلال چوہدری نے واضح کیا۔ "سکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے تاکہ کوئی شرپسند عنصر امن میں خلل نہ ڈال سکے۔"
وفاقی حکومت کا صوبوں کو درکار ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا عزم
طلال چوہدری نے صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ کو یقین دلایا کہ وفاق امن و امان کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔ انہوں نے صوبائی حکام کو ہدایت کی کہ سکیورٹی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی درکار اضافی معاونت سے وفاق کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
جائزہ اجلاس کے اہم ترین نکات:
مربوط مشترکہ حکمتِ عملی: تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹریز اور پولیس حکام کی اجلاس میں کلیدی شرکت۔
جامع بریفنگ: محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے سکیورٹی روٹس اور حساس مقامات کا تفصیلی احاطہ۔
فول پروف سکیورٹی کا حکم: قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فول پروف اقدامات کو مزید فول پروف اور فول پروف بنانے کی سخت ہدایت۔
وفاقی تعاون کا پیکیج: صوبوں کو درکار اضافی فورسز، آلات اور تمام ممکنہ لاجسٹک تعاون کی فراہمی کی یقین دہانی۔