کالعدم تنظیموں کے سہولت کار ساجد احمد کو 14 سال قید کی سزا

کالعدم تنظیموں کے سہولت کار ساجد احمد کو 14 سال قید کی سزا

ملزم کے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے ذریعے طلبہ کو اکسانے اور خودکش حملے کی تیاری کے اعترافات

تربت — انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) تربت نے کالعدم تنظیموں 'بلوچستان لبریشن آرمی' (بی ایل اے) اور 'بلوچستان لبریشن فرنٹ' (بی ایل ایف) کے اہم سہولت کار ساجد احمد کو جرم ثابت ہونے پر 14 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو پنجگور سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد سمیت گرفتار کیا تھا۔


عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن نے ٹھوس شواہد پیش کیے، جس پر انسدادِ دہشت گردی عدالت تربت نے ملزم ساجد احمد کو دہشت گردوں کی معاونت پر 14 سال قید اور بلوچستان آرمز ایکٹ کے تحت مزید 7 سال قید کی سزا کا حکم دیا۔


عدالتی فیصلے اور تحقیقات کے اہم ترین نکات

تفتیشی اداروں کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں:


طلبہ کی جبری بھرتی: ملزم ساجد احمد بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے پلیٹ فارم کو طلبہ کو ورغلانے اور انہیں کالعدم تنظیموں میں بھرتی کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا۔


خودکش حملے کی تیاری: تحقیقات کے مطابق ملزم کو نیٹ ورک کی جانب سے ایک بڑے خودکش حملے کے لیے گاڑی تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔


غیر ملکی روابط کا انکشاف: ملزم کے بھارتی اسپانسرڈ نیٹ ورکس اور بیرونی پراکسیز سے براہِ راست رابطوں کے ناقابلِ تردید ثبوت بھی ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے ہیں۔

بی وائی سی اور عسکریت پسند تنظیموں کا گٹھ جوڑ

اس اہم عدالتی فیصلے اور ساجد احمد کو ملنے والی سزا نے ایک بار پھر نام نہاد حقوق کی تنظیموں اور کالعدم مسلح جتھوں کے مابین پسِ پردہ روابط کو بے نقاب کر دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کس طرح کچھ مقامی کمیٹیاں نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانے اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے بطور فرنٹ کام کر رہی ہیں