بلوچستان اسمبلی سے 1189 ارب روپے کا صوبائی بجٹ متفقہ طور پر منظور

بلوچستان اسمبلی سے 1189 ارب روپے کا صوبائی بجٹ متفقہ طور پر منظور

اپوزیشن کی جانب سے کوئی کٹ موشن پیش نہیں کی گئی؛ تمام 118 مطالبات زر کثرت رائے سے پاس

کوئٹہ — بلوچستان اسمبلی نے اتوار کے روز مالی سال 27-2026 کے لیے 1189 ارب روپے کا بھاری صوبائی بجٹ متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی قسم کی کٹ موشن (تحریک تخفیف) پیش نہیں کی گئی، جس کے بعد تمام 118 مطالبات زر کو ایوان نے بغیر کسی رکاوٹ کے منظور کر لیا۔


اسمبلی کا یہ اہم ترین اختتامی اجلاس اسپیکر کیپٹن (رٹائرڈ) عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں مقررہ وقت سے 40 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب احمد نوشیروانی نے ایوان میں باری باری مطالبات زر پیش کیے، جنہیں ایوان نے مکمل آئینی تائید کے ساتھ پاس کیا۔


بجٹ کے بنیادی خدوخال: ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات

صوبے کے مجموعی بجٹ کو انتظامی امور چلانے اور نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:


غیر ترقیاتی اخراجات: جاری اور انتظامی امور کے لیے 797.808 ارب روپے کی رقم 53 مطالبات زر کے تحت منظور کی گئی۔


ترقیاتی اخراجات: صوبے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور عوامی فلاح کے نئے منصوبوں کے لیے 291 ارب روپے کی رقم 45 مطالبات زر کے تحت مختص کی گئی۔


غیر ترقیاتی بجٹ کی اہم تفصیلات

صوبے میں امن و امان، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو غیر ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے:


امن و امان اور پولیس: پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے لیے 87.18 ارب روپے منظور کیے گئے۔


محکمہ صحت: صوبے میں طبی سہولیات کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے 86.77 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔


تعلیمی شعبہ: بوائز اسکولوں کے لیے 35.07 ارب روپے، گرلز اسکولوں کے لیے 29.72 ارب روپے جبکہ ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے 28.71 ارب روپے کی منظوری دی گئی ہے۔


ملازمین کی پنشن اور مراعات: سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد واجبات کی ادائیگی کے لیے 100 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔


ترقیاتی بجٹ کے تحت اہم ترین منصوبے

صوبے کی معاشی ترقی، زراعت اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مندرجہ ذیل محکموں کو بڑے فنڈز جاری کیے گئے ہیں:


کمیونیکیشن، ورکس اینڈ ہاؤسنگ: سڑکوں اور رہائشی منصوبوں کے لیے 27.06 ارب روپے۔


سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی: ڈیجیٹلائزیشن اور آئی ٹی کے فروغ کے لیے 15.94 ارب روپے۔


محکمہ آبپاشی (اریکیشن): زرعی پانی کی فراہمی کے لیے 12.75 ارب روپے۔


پبلک ہیلتھ انجینئرنگ: پینے کے صاف پانی کی اسکیموں کے لیے 7.61 ارب روپے۔


محکمہ توانائی (انرجی): بجلی کے منصوبوں کے لیے 5.38 ارب روپے۔


بجٹ کے تمام نکات کی منظوری کے بعد ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے مکمل ہوئی، جس کے بعد یہ نیا مالیاتی بجٹ یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔