کوئٹہ اے ٹی سی کا بڑا فیصلہ: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
گوادر میں سیکیورٹی اہلکار شبیر کے قتل کا جرم ثابت؛ جیل سے آن لائن عدالتی کارروائی مکمل
کوئٹہ — کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نمبر ایک نے ایک انتہائی اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی مرکزی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق، حساس نوعیت اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مقدمے کی سماعت آن لائن طریقہ کار کے تحت کی گئی۔ دونوں ملزمان نے ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف دائر آئینی درخواست کو بھی تفصیلی سماعت کے بعد مسترد کیا جا چکا ہے۔
سیکیورٹی اہلکار پر حملے اور عدالتی فیصلے کی تفصیلات
استغاثہ (پراسیکیوشن) کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے ٹھوس شواہد اور گواہان کے بیانات کے مطابق مقدمے کے بنیادی حقائق درج ذیل ہیں:
مقدمے کا پسِ منظر: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ گوادر میں ہنگامہ آرائی کے دوران سیکیورٹی اہلکار شبیر کے قتل کے مقدمے میں باقاعدہ نامزد ملزم تھے۔
وقوعہ کی تفصیل: مقدمے میں ریاست کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کے دوران مظاہرین کی جانب سے شدید پتھراؤ کیا گیا، جس کی زد میں آ کر سیکیورٹی اہلکار شبیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے تھے۔
جرم کی توثیق: عدالت نے دونوں فریقین کے تفصیلی دلائل اور دستیاب مادی شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد جرم ثابت ہونے پر دونوں ملزمان کو عمر قید کی سخت سزا کا حکم جاری کیا۔